چنئی/حیدرآباد، 24اگست(ایس ا ونیوز/آئی این ایس انڈیا) ملک کی 16 ریاستوں کی 600 لڑکیوں نے مبینہ طور پر ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں فرنٹ آفس جاب کے لئے سافٹ ویئر انجینئر کو اپنی برہنہ تصویر اور ویڈیو بھیج دی۔چنئی میں رہنے والے ملزم انجینئر نے خود کو ہوٹیل کا ایڈمن منیجر بتایا تھا،تصویر اور ویڈیو حاصل کرنے کے بعد ملزم انجینئر ان لڑکیوں کو پیسے کے لئے بلیک میل کرنے لگا۔پولیس نے ملزم انجینئر کو گرفتار کر لیا ہے۔ملزم انجینئر کلیمنٹ راج چوجھیان عرف پردیپ کو سائبرآباد پولیس نے اس کے چنئی میں واقع گھر سے گرفتار کیا ہے۔حیدرآباد کی ایک خاتون نے پردیپ کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔بتایا جا رہا ہے کہ پردیپ کے جھانسے میں آندھرا پردیش، کرناٹک، مہاراشٹر، تمل ناڈو اور دہلی سمیت 16 ریاستوں کی لڑکیاں آئی تھیں،ان لڑکیوں سے پردیپ نے لاکھوں روپے وصول کئے تھے۔اب تک کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ پردیپ ایک بڑی آئی ٹی کمپنی میں کام کرتا ہے،پردیپ اپنے گھر سے ایک جعلی ایڈمن آفس چلاتا تھا۔تفتیش میں پردیپ نے قبول کیا ہے کہ اس نے 600 خواتین کو دھوکہ دیا ہے۔پردیپ نے بتایا کہ وہ اپنی نائٹ شفٹ سے پریشان تھا، اس لئے اس نے خواتین کے نمبر جمع کرنا شروع کر دیا۔معاملے کی تحقیقات کر رہے ایک سینئر پولیس افسر نے کہاکہ ملزم پردیپ اکثر نائٹ شفٹ میں رہتا تھا اور اس نے دعوی کیا ہے کہ اس کی بیوی دن میں کام کرتی تھی، اس کی وجہ سے وہ گھر میں اکیلا اور مایوس محسوس کرتا تھا۔اس نے مزے کے لئے پپیلر ای کلاسیفائید پورٹل سے خواتین کے نمبر لینا شروع کیا لیکن جلد ہی اس نے بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ پردیپ نے متاثرہ خواتین سے کہا کہ وہ ہوٹل میں فرنٹ آفس جاب کے لئے پرکشش خواتین کے لئے تلاش کر رہا ہے،شروع میں خواتین سے فون سے بات کرنے کے بعد وہ اپنی ایک خاتون ساتھی کی مدد سے ان سے مفت تصویر منگوانے لگا،بعد میں پردیپ خواتین ویڈیو کال کرکے ان سے لائیو کپڑے اتارنے کے لئے کہتا،پردیپ ایک سافٹ ویئر کی مدد سے خواتین کی عریاں ویڈیو بنا لیتا تھا۔